اظہارِ تشکر: صاحبزادہ میاں محمد اعجاز عالم نقشبندی

اظہارِ تشکر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الصٰلوۃ السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ

واعلی الک واصحابک یا سیدی یا حبیب اللہ

اللہ ربُ العزت کا بے انتہا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب رسول محمدؐ کی امتِ عالیہ کا ایک فرد ہونے کی عظمت سے نوازا اور   رسولؐ اللہ کے ایک پیارے ولیٔ کامل الحاج حضور قبلہ میاں محمد عالمؒ کے گھرانے میں پیدا فرما کر اہلیانِ نسبت میں شمار سے سرفراز فرمایا۔

اللہ مالکِ کائنات کا لاکھ لاکھ شکر ہے  کہ جس کی توفیق سے آج میں اپنے والدِ محترم، ولیٔ کامل، زبدۃ العارفین، پیرِ طریقت،  رہبرِ  شریعت، الحاج  قبلہ حضرت  میاں محمد عالم رحمۃ اللہ علیہ نوری،  نقشبندی، مجددی و قادری کی عمرِ عزیز پر ایک کتاب پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

یہ بیشک اللہ ربُ العزت کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب رسول محمدؐ کی امت کے ایک پیارے ولیٔ کامل کی حیاتِ مبارکہ مرتب کرنے کی توفیق سے نا صرف نوازا  بلکہ اپنے نامۂ اعمال میں اس عظیم کارِخیر  کو درج کروانے کی بھی سعادت عطا کی۔ اولیاء اللہ  اپنے فیوض و برکات، مخلوقِ خداوندِ کریم میں بیشمار انداز میں تقسیم فرماتے ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ بیشک میاں صاحبؒ کی سوانح عمرِ عزیز   اُن فیوض و برکات میں سے  راہِ حقیقت کے مسافر افراد کیلئے ایک نادر تحفہ ہے۔

مومن کی معراج یہ ہے کہ وہ سرورِعالم آقا و مولا سیدنا حضرت محمدؐ کے مبارک قدموں میں پہنچے۔ حضرت محمدؐ کے قدموں میں حاضر ہونا ہی ہمارے عشق کی معراج ہے۔ لیکن حضور  رحمۃ اللعالمین محمدؐ کی طرف سفر کرنے سے قبل مسلمان کا اپنی ہی ذات میں سفر کرنا لازم سمجھتا ہوں اور کسی قابل اور کامل ولی اللہ کے دستِ مبارک پر بیعت کرنے سے ہی اس سفر کا آغاز ہوتا ہے۔

حضور قبلہ میاں محمد عالمؒ انہی کاملین میں سے ہیں جنہیں خداوندِ کریم نے عشقِ مصطفیٰ کے جذبے سے سرشار فرمایا اور  اپنی مخلوق جِن و بشر کی رشدوہدایت کے عظیم منصب پر فائز فرمایا ۔  اللہ تعالیٰ نے آ پؒ کو اپنے منتخب انعامات  سے نوازا ہے جن میں خاص کر علمِ لدنی کی نعمت عطا کی۔ حضور قبلہ میاں محمد عالمؒ کی حیاتِ مبارکہ ایک مشعلِ راہ ہے جس کی منزل اللہ اور حضور نبی پاکؐ ہیں۔

ہمارے بزرگ جناب ابو السلیم عبدالغنی البانویؒ نے حضور قبلہ میاں صاحبؒ کے زیرِ سایہ “آئینہ نقشبندی” بہترین انداز میں مرتب فرمائی جو حضور قبلہ میاں صاحبؒ کے فیوض و برکات کے حوالہ سے ایک نایاب کتاب ہے۔ البانویؒ صاحب نے کسی بھی عام انسان کو  راہِ حقیقت سمجھانے کا جو انداز کتاب میں پیش کیا تھا، بیشک یہ انہی کی کاوش کا اخذ ہے کہ آئینہ نقشبندی  آج ہمارے لیے راہِ طریقت کو سمجھنے اور سمجھانے کیلئے ایک بنیادی سبق ہے۔

الحمد اللہ، ہمارے لیےیہ خوش آئند بات ہے کہ حضور قبلہ میاں صاحبؒ کی حیاتِ مبارکہ کو مرتب کرنے کا جو ارادہ انہوں نے فرمایا تھا،  وہ آج ہم لوگوں کے ذریعہ سے پایۂ تکمیل ہوا ہے۔ اللہ ربُ العزت سے محترم جناب البانویؒ کے درجات کی بلندی کیلئے عرضِ دعا ہوں۔

اس کتاب کو پایۂ تکمیل تک لانے کے لیے میں  جناب خلیفہ محمد اکبر صاحب، جناب محمد سلیم البانوی صاحب، جناب محمد رفیق صاحب، جناب محمد امجد علی بھٹی صاحب، جناب محمد مشتاق صاحب، جناب محمد عبدالخالق عرف بٹ صاحب، جناب محمد افضل صاحب، جناب ڈاکٹر صاحبزادہ سید عبدالماجد صاحب، جناب محمد اسلم کاکا اور دیگر یارانِ طریقت حضرات کا مشکور ہوں جنہوں نے نہایت محبت اور شفقت سے اس کتاب کی ترتیب اور اصطلاح میں میرا ساتھ دیا۔

میں اپنے اِن بزرگوں اور دوستوں کیلئے اللہ ربُ العزت سے رسول اکرمؐ کے طفیل، درجات کی بلندی، رزق، عمر و صحت میں برکت اور دونوں جہانوں کی کامیابی اور  بے شمار فضیلتوں کیلئے دعا گو ہوں۔

التجا ہے اللہ ربِ کائنات سے کہ وہ ہمیں ہمارے کاموں میں ہدایت عطا کرے، علم و عمل اور ایمان میں ترقی  ہو، ہمارے سینوں کی شمعیں مزید فروزاں ہوں کہ ہر سالک  عشقِ محمدؐ کے نام کا چراغ ہو جائے، ہمیں بزرگانِ دین کے رستے پر چلنے کی توفیق عطا ہو ، عشقِ حقیقی سے آشکاری اور اسرار و رموز  سے آشنائی کی بیشمار دعاؤں کے ساتھ؛

صاحبزادہ خلیفہ میاں محمد اعجاز عالم نقشبندی

زیبِ سجادہ نشین

دربار حضرت قبلہ میاں محمد عالمؒ