اظہارِ تشکر: صاحبزادہ اسد علی نقشبندی

اظہارِ تشکر

فقط نگاہ سے ہستی سنوار  دیتے ہیں

تُو  درِ  فقیر  پر  خود  کو  جُھکا  تو  سہی

اللہ ربُ العزت کا بیحد شکر ہے کہ اس نے اپنے محبوب نبی پاک احمدِ مجتبیٰ محمّد صلی اللہ علیہ واٰلہ واصحابہ وسلم کے صدقے ہمیں امتی ہونے کا شرف بخشا۔ بیحساب و بیشمار  درور و سلام ہو محبوب رسول محمدؐ پر، آپؐ کی آل و اولاد، صحابہ کرامؓ، اولیاء اللہ، ملائکہ اور نیک لوگوں پر۔

اللہ مالکِ کون و مکاں جو سب کا ہادی و ناصر ہے، اُس ذات کا احسانمند ہوں جس نے مجھ جیسے بھٹکے ہوئے کو اپنے منتخب و برگزیدہ بندے، اولیا باصفا حضرت قبلہ میاں محمد عالمؒ کی چوکھٹ کا رستہ دکھایا۔

یہ یقیناً ہمارے لیے ایک قابلِ رشک اور باعثِ شرف بات ہے کہ 1973 میں قریباً 40 سال قبل، ہمارے محترم بزرگ جناب ابوالسلیم عبدالغنی البانویؒ نے حضور قبلہ میاں محمد عالمؒ کے زیرِ سایہ ایک عظیم الرمرتبہ کتاب ” آئینۂ نقشبندی” مرتب کرنے کی سعادت حاصلی کی تھی، جو کہ ہر دور میں راہِ حقیقت کے متلاشی افراد کے لیے ایک نسخۂ کیمیا ہے۔

آج  اُسی راہ پر گامزن کرتے ہوئے اور اسی طرز پر، اللہ رب العزت نے اس بندۂ حقیر کو اس شرف نے نوازا کہ اپنے مرشدِ محترم جناب محمد اعجاز عالم مد ظلہ عالیہ کے زیرِنظر، میں اپنے دادا جان ولیٔ کامل حضرت میاں محمد عالمؒ کی سوانح عمرِ عزیز کے چند پہلو اور  افکار کو ایک کتاب کی شکل میں مرتب کرسکوں، جو کہ قبلہ میاں محمد عالمؒ سے عقیدت و محبت کرنے والے حلقۂ یارانِ طریقت کے لیے بطور  تحفہ پیش کی جا رہی ہے۔

ہر مسلمان زندگی بھر  ایسے اعمال کرنے میں کوشاں رہتا ہے کہ جن کے باعث اس کو نبی اکرم محمدؐ کی شفاعت نصیب ہو جائے۔  یہ ایک زرے کو آفتاب سے منور اور اپنی خاک کو کندن کرنے کی اک جستجو اور کوشش ہے۔  یہ وہی کام ہے جس کا ارادہ جناب ابوالسلیم عبدالغنی البانویؒ نے قریباً 40 سال قبل کیا تھا اور آج یہ شرف اس خادم کو عطا کیا گیا کہ اُن کی سوچ اور ارادے کو عملی شکل تک پہنچایہ جائے۔

حضور قبلہ میاں محمد عالمؒ کی سوانح عمرِ عزیز کو مرتب کرنے کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اسلاف سے آشنائی حاصل کریں۔ انکی عمرِ عزیز کا مطالعہ اور تعلیمات پر عمل کرنے سے ہم اپنے روزمرہ کے دینی اور دنیاوی کاموں میں استفادہ حاصل کریں۔

اس عظیم کام کو پایۂ تکمیل تک لانے کے لیے میں جناب مرشدِ محترم سجادہ نشین صاحبزادہ میاں محمد اعجاز عالم صاحب اور دیگر یارانِ طریقت حضرات کا مشکور ہوں جنہوں نے نہایت محبت اور شفقت سے مجھے اس سعادت سے مستفید ہونے اور اس کاوش کو میرے لیے باعثِ شفاعت بنانے میں ایک نمایہ کردار ادا کیا۔

میں اپنے اِن بزرگوں اور دوستوں کیلئے بارگاہِ خداوندِ کریم میں بصدقے رسول اکرمؐ بلندیٔ درجات، رزق، عمر و صحت میں برکت اور دونوں جہانوں کی بے شمار رحمتوں اور راحتوں کیلئے عرضِ دعا ہوں۔

جناب مظفر وارثیؒ نے راہِ طریقت کے بارے میں کچھ یوں فرمایا کہ؛

یہ معرفت کے راستے ہیں اہلِ دل کے واسطے

جنیدیوں سے جا کے مل، غزالیوں میں بیٹھ جا

درود   پڑھ،  نماز   پڑھ ، عبادتوں  کے   راز   پڑھ

صفیں تو سب بچھی ہیں، عشق والیوں میں بیٹھ جا

التجا ہے ربِ کائنات سے کہ وہ اپنے نبیِ مرسل سیدُ البَشر حضرت محمّدؐ کے صدقے ہمیں عشقِ مصطفیٰ سے سرشار فرمائے اور اِن اولیاء اللہ اور صوفیہ کرام کے طفیل ہماری رہنمائی فرماۓ اور ہمیں ان بزرگوں کا فیض عطا کرے۔ آمین ثم آمین یا ربُ العٰلمین!

صاحبزادہ اسد علی نقشبندی

دربار حضرت قبلہ میاں محمد عالمؒ