سجادہ نشین صاحبزادہ حضرت میاں محمد اعجاز عالم مدظلہ العالی

ijaz sahib

سجادہ نشین صاحبزادہ حضرت میاں محمد اعجاز عالم مدظلہ العالی

اولیاء کاملین مظہرِ نورِ خدا اور متبعٔ قدمِ مصطفیٰ ہوتے ہیں۔ جیسے حضرت یقوب علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے کثیر اولاد سے نوازا، اور ان میں سے صرف حضرت یوسف علیہ السلام  کو نبوت کے لیے منتخب فرمایا۔ اسی طرح حضرت قبلہ میاں محمد عالمؒ کو اللہ رب العزت نے کثیر اولادِ نرینہ سے نوازا، لیکن سجادہ نشینی کے حقیقی منصب کے لیے جناب میاں محمد اعجاز  عالم صاحب کو منتخب فرمایا۔

جس وقت حضرت  قبلہ میاں محمد عالمؒ کا وصال ہوا، اس وقت جناب اعجاز عالم صاحب کی عمر  تقریباً ۱۰  سال تھی۔ جب تک یہ بالغ ہو کر  مسندِ خلافت کے قابل نہ ہوئے، اس عرصہ کے لئے اللہ رب العزت نے قبلہ میاں صاحبؒ کے وصال کے بعد مخلوقِ خدا کو فیوض و  برکات سے نوازنے کے لئے حضرت  قبلہ میاں صاحبؒ کے خلیفہ حاجی عبدالولی صاحبؒ کو منتخب کیا اور جب محترم میاں اعجاز عالم صاحب سنہ بلوغت کو پہنچے تو اپنے والدِ محترم کے پیرومرشد حضور سلطان الاولیاء حضرت پیر سید حمید گل شاہؒ سواتی کے فرزندِ ارجمند جناب حضور جگر گوشۂ سلطانُ الاولیاء  پیر  حافظ محمد انور شاہؒ سواتی سے شرف بیعت حاصل کیا۔

آپکی بیعت کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا  تھا کہ آپ کے پیرومرشد جناب حافظ انور شاہ صاحبؒ کا وصال ہو گیا۔ قدرت خدا کی کہ اس سے کچھ عرصہ بعد قبلہ میاں محمد عالمؒ کے خلیفہ، جناب حاجی عبدالولی  صاحبؒ بھی رضائے الہی سے وصال فرما گئے۔ انکے وصال کے بعد قبلہ میاں صاحبؒ کے آستانۂ عالیہ پہ فیوض و برکات میں قلیل خلا پیدا ہوا۔ اللہ کی رحمت جوش میں آئی تو اس نے صاحبزادہ جناب محمد اعجاز عالم صاحب کو ذمہ داری سنبھالنے کا عزم عطا کیا۔

جب  خلیفہ حاجی عبدالولیؒ کا چہلم اور ختم گیارہویں شریف آستانۂ عالیہ پر منعقد ہوا تو اس محفل میں درگاہ ولیؔ کامل زندہ پیر سرکار المعروف گمگول شریف کوہاٹ کے خلیفہ صاحبزادہ جناب سید صابر حسین شاہ صاحب اپنے پیر بھائیوں کے ہمراہ اس محفل میں تشریف لائے اور صاحبزادہ میاں محمد اعجاز عالم صاحب کو نیک تمناؤں کا اظہار فرماتے ہوئےاس عظیم منسب پر فائز ہونے پر مبارکباد پیش کی۔

کچھ عرصہ بعد حضرت صاحبزادہ پروفیسر  پیر  سید مخدوم علی شاہ سواتی نے نہایت شفقت و محبت کا اظہار کرتے  ہوئے فرمایا کہ میں اپنے والدِ محترم حضرت پیر قبلہ سید حافظ انور شاہؒ سواتی کے حکم سے میاں اعجاز عالم کو دستارِ خلافت عطا کر رہا ہوں۔ یہ دستارِ خلافت میاں اعجاز صاحب کو ماہانہ ختم گیارہویں شریف کے موقع پر دی گئی جو کہ آستانۂ عالیہ پیر  حضرت سید حمید گل شاہؒ سواتی پر ہر ماہ منعقد ہوتا ہے، جس میں حضرت میاں محمد عالمؒ کے مریدین و عقیدتمند   1-  جناب حاجی عبدالخالق عرف بٹ صاحب، 2- جناب حاجی محمد افضل صاحب، 3- جناب امجد علی بھٹی صاحب ، 4-  جناب محمد اسلم کاکا صاحب اور دیگر حضرات بھی شامل تھے۔

خلافت ملنا تھی کہ مخلوقِ خدا آپکی طرف امڈ آئی، اللہ ربُ العزت نے آپکی ذاتِ مبارکہ میں وہ کشش اور روحانیت عطا فرمائی کہ جو آپ کو دیکھتا ہے، آپکا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ جس کے باعث حضرت قبلہ محمد عالمؒ   کے آستانۂ عالیہ کی رونق میں روزافزوں اضافہ ہو رہا ہے۔

اللہ ربُ العزت ان فیوض و برکات کو تاقیامت قائم و دائم رکھے، اور  سجادہ نشین صاحبزادہ  میاں محمد اعجاز عالم صاحب مدظلہ العالی کے درجات بلند فرمائے، آمین۔

معمولات”

سجادہ نشین صاحبزادہ میاں محمد اعجاز  صاحب  صبح 8 بجے سے 11بجے تک عوام الناس کے فیوض و برکات کے لئے آستانۂ عالیہ پر تشریف فرما ہوتے ہیں، بعد ازاں اپنے دنیاوی ذمہ داری کےلئے کاروبار میں مصروف ہوتے ہیں۔

اپنے والد محترم جناب قبلہ میاں صاحبؒ کے طریقہ کار کے مطابق، بروز منگل و ہفتہ ملاقات نہیں کرتے۔

بروز جمۃ المبارک، بعد نماز جمعہ، احاطۂ دربار شریف میں  محفلِ ذکر اور درود پاک ہوتی ہے۔

ہرقمری ماہ کے دوسرے اتوار ، صبح 9بجے تا 1 بجے ختمِ خواجگان کی محفل کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں کثیر تعداد میں مخلوقِ خدا شرکت کر کے فیضیاب ہوتی ہے۔

۔